ابنا: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کا اجلاس چیئرمین سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں ہوا۔ رکن کمیٹی سجاد الحسن نے کہا کہ اوکاڑہ میں بجلی کی بائیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نا قابل برداشت ہو گئی ہے۔ چئیرمین واپڈا شکیل درانی نے کمیٹی کو بتایا کہ 2018 تک بجلی کی طلب اور رسد کا فرق ختم کیا جا سکے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ بھارت تین مغربی دریاوں پر کوئی ڈیم نہیں بنا سکتا۔ شکیل درانی نے کہا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی سولہ کلو میٹر طویل ٹنل تعمیر کر چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز